31 اکتوبر 2010 - 20:30

سعودی عرب اور خلیج فارس کی عرب ریاستوں کے 66 سے زائد دانشوروں اور مفکرین نے اپنے مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ خلیج فارس کی عرب ریاستوں کے حکمرانوں کی غلط اور فرقہ وارانہ پالیسیوں کی وجہ سے یہ علاقہ دنیا میں مذہبی اختلافات کا اصلی باعث و بانی ہے۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق سعودی عرب اور خلیج فارس کی دیگر عرب ریاستوں کے 66 سے زائد سیاسی راہنماؤں، قانوندانوں، مصنفین، مفکرین اور تاجروں نے ایک بیان میں خطے کے عرب ممالک سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ بیان آزادی کے خلاف اپنی معاندانہ پالیسیاں ترک کردیں اور انسانوں کے حقوق کی پامالی اور ان کی شان و شرافت کی توہین سے اجتناب کریں۔ اس بیان میں کہا گیا ہے:  شہریوں کے حقوق کی پامالی، عدل اور برابری و مساوات کے اصولوں کی خلاف ورزی اور فرقہ وارانہ رجحانات کو تقویت پہنچانا، اس خطے کی حکومتوں کی جانب سے سرکوبی پر مبنی اقدامات کا حصہ ہیں۔ بیان پر دستخط کرنے والے دانشوروں اور مفکرین نے مطالبہ کیا ہے کہ موجودہ مسائل و مشکلات کو حل کرنے کے لئے سنجیدہ اور وسیع البنیاد گفتگو اور مذاکرات کی راہ ہموار کی جائے اور اس سلسلے میں نافذ العمل فیصلے کئے جائیں۔ اس بیان میں عربی و اسلامی معاشروں میں انتہاپسند تکفیری عناصر کی طرف سے فرقہ وارانہ اعلانات و خطابات پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ بیان میں آیا ہے کہ: انسانی حقوق کے عالمی منشور کی پامالی اور مدنی و شہری حقوق کی اعلانیہ خلاف ورزی کرنے والی حکومت، عوام میں فرقہ واریت اور قومی منافرت پھیلانے کی اصل ذمہ دار ہے جبکہ اس خطے کے حکمرانوں نے اس موضوع کے حوالے سے تجاہل عارفانہ (یا جانتے بوجھتے نادانی) کی پالیسی اپنا رکھی ہے۔ اس بیان میں عرب قانوندانوں نے خبردار کیا ہے کہ ان حالات کا بنیادی حل ڈھونڈنے سے ہر قسم کی غفلت و کوتاہی اور ادیان و مذاہب کے مقدسات و علائم کی ہر قسم کی توہین، ادیان و مذاہب کے پیروکاروں کے درمیان ناقابل تلافی منافرت کا باعث ہوگی۔

............

/110